آشفتہ چنگیزی |
Tabeer Is Ki Kya Hai Dhuwan Daikhta Hon Mein
تعبیر اس کی کیا ہے دھواں دیکھتا ہوں میں
اک دریا کچھ دنوں سے رواں دیکھتا ہوں میں
اب کے بھی رائیگاں گئیں صحرا نوردیاں
پھر تیری رہ گزر کے نشاں دیکھتا ہوں میں
یہ سچ ہے ایک جست میں ہے فاصلہ تمام
لیکن ادھر بھی شہر گماں دیکھتا ہوں میں
ہے روشنی ہی روشنی منظر نہیں کوئی
سورج لٹک رہے ہیں جہاں دیکھتا ہوں میں
آیا جو اس حصار میں نکلا نہ پھر کبھی
کچھ ڈوبتے ابھرتے مکاں دیکھتا ہوں میں
کھائے گی اب کے بار بھی آشفتگی فریب
صید طلسم شعلہ رخاں دیکھتا ہوں میں
آشفتہ چنگیزی
No comments:
Post a Comment